Skip to content
Shaadi Hisab

تصدیق: 2026-11-04

پاکستان میں شادی کے قوانین

ہر صوبے میں مہندی، بارات اور ولیمہ پر قانون کیا اجازت دیتا ہے: کھانا، اختتامی وقت، سجاوٹ اور جہیز۔

قوانین اور نوٹیفکیشن بدلتے رہتے ہیں۔ بکنگ سے پہلے اپنی ضلعی انتظامیہ اور ہال سے موجودہ قواعد کی تصدیق کریں۔ یہ قانونی مشورہ نہیں۔

پنجاب

پنجاب میرج فنکشنز ایکٹ 2016

کھانا
عوامی جگہ پر صرف ون ڈش: ایک سالن، ایک چاول کی ڈش، ایک سلاد، گرم اور ٹھنڈے مشروبات، روٹی، نان اور ایک میٹھا (دفعہ 2(د)، 4)۔ یہ پابندی میزبان کے ساتھ ہال کے مالک، منیجر اور کیٹرر پر بھی ہے (دفعہ 5)۔ گھر پر کھانا اس میں شامل نہیں۔
اختتامی وقت
تمام تقریبات رات 10 بجے تک ختم (دفعہ 6، ہال کا مالک یا منیجر ذمہ دار ہے)۔
مزید
  • مایوں، مہندی، بارات، نکاح، رخصتی اور ولیمہ سب شامل ہیں (دفعہ 2(ج))۔
  • عوامی جگہوں میں ہال، مارکی، ہوٹل، کلب، کمیونٹی سنٹر، پارک، کھلی جگہیں اور شادی کے لیے کرائے پر لی گئی نجی جگہ شامل ہیں (دفعہ 2(و))۔
  • ہال کے باہر گلیوں، سڑکوں یا پارکوں میں لائٹیں نہیں؛ پٹاخے، آتش بازی اور ہوائی فائرنگ نہیں؛ جہیز کی عوامی نمائش نہیں؛ ہمسایوں کو تکلیف نہیں (دفعہ 3)۔
  • خلافِ قانون پیش کیا گیا کھانا ضبط ہو جاتا ہے (دفعہ 10)۔
  • 2025 اور 2026 میں عمل درآمد: لاہور میں ون ڈش اور وقت کی خلاف ورزی پر ہال سیل (ڈان، اکتوبر 2025)؛ تین دن میں 562 جگہوں کا معائنہ اور 14 سیل (پرو پاکستانی، دسمبر 2025)۔
سزا
ایک ماہ تک قید اور 50 ہزار سے 20 لاکھ روپے تک جرمانہ (دفعہ 8)؛ مجسٹریٹ سمری ٹرائل کرتا ہے (دفعہ 9)۔
پنجاب کوڈ پر 2016 کے ایکٹ میں کوئی ترمیم نہیں ملی (4 نومبر 2026 کو تلاش کیا)۔

ماخذ (انگریزی)

اسلام آباد

میرج فنکشنز (نمود و نمائش اور فضول خرچی کی ممانعت) آرڈیننس 2000، ترمیم 2006

کھانا
کلب، ہوٹل، ریستوران، شادی ہال، کمیونٹی سنٹر یا کسی اور جگہ ون ڈش: ایک سالن، روٹی کے ساتھ چاول، ایک میٹھا، گرم اور ٹھنڈے مشروبات (ترمیم شدہ دفعہ 4)۔ گھر پر خاندان اور مہمانوں کا کھانا مستثنیٰ ہے۔
اختتامی وقت
ہال رات 10 بجے تک بند (ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن؛ وفاقی کابینہ ڈویژن نے 17 ستمبر 2026 کو توانائی بچت کے اوقات برقرار رکھے)۔
مزید
  • گھروں، گلیوں اور سڑکوں پر عام روشنی سے زیادہ لائٹیں نہیں؛ پٹاخے، فائرنگ اور آتش بازی نہیں (دفعہ 3)۔
  • 2026 میں اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے عمل درآمد؛ دوسری خلاف ورزی پر ہال سیل اور مالکان گرفتار (پرو پاکستانی، مئی 2026)۔
سزا
ایک ماہ تک قید یا جرمانہ (دفعہ 6)۔ سرکاری اسکین میں جرمانے کی رقم واضح نہیں۔

ماخذ (انگریزی)

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میرج فنکشنز ایکٹ 2018

کھانا
رخصتی، بارات اور ولیمہ پر: ایک چاول، ایک سالن، ایک خشک ڈش، نان یا روٹی، سلاد اور میٹھا (دفعہ 2(ہ))۔ منگنی، مہندی اور نکاح پر صرف مشروبات (دفعہ 4(ب))۔ نجی گھروں اور فارم ہاؤسز پر بھی لاگو (دفعہ 2(ز))۔
اختتامی وقت
تمام تقریبات رات 11 بجے تک ختم (دفعہ 6)۔
مزید
  • دلہن کے والدین یا خاندان کی طرف سے تحائف کی کل مالیت ایک لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتی (دفعہ 3)۔
  • لاؤڈ اسپیکر جہاں تک ممکن ہو اندر؛ گھروں یا گلیوں پر لائٹیں نہیں؛ پٹاخے یا فائرنگ نہیں (دفعہ 4 اور 5)۔
سزا
کم از کم 2 لاکھ روپے جرمانہ، یا تین ماہ تک قید، یا دونوں؛ جہیز کا مطالبہ: دو ماہ تک قید اور کم از کم 3 لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں (دفعہ 7)۔

ماخذ (انگریزی)

سندھ

صوبائی میرج فنکشنز ایکٹ نہیں ملا؛ انتظامی نوٹیفکیشن لاگو ہیں

کھانا
مارچ 2026 کے سندھ کفایت شعاری نوٹیفکیشن میں صرف ایک ڈش اور زیادہ سے زیادہ 200 مہمانوں کی حد رکھی گئی (ڈان)۔ کیا یہ اب بھی نافذ ہے: تصدیق نہیں ہو سکی۔
اختتامی وقت
سندھ کے اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن میں شادی ہالوں کو رات 8 سے 12 بجے تک کھلنے کی اجازت دی گئی (دی نیوز)۔
مزید
  • کراچی کے ہال مہمانوں کی تعداد کے حساب سے ہر تقریب پر کے ایم سی ٹیکس بھی دیتے ہیں (مئی 2025)۔
سزا
ہر نوٹیفکیشن میں الگ؛ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ہم سندھ کوڈ کی ویب سائٹ تک نہیں پہنچ سکے۔ اپنے ہال سے موجودہ نوٹیفکیشن کے بارے میں پوچھیں۔

ماخذ (انگریزی)

بلوچستان

صوبائی میرج فنکشنز ایکٹ نہیں ملا

کھانا
ون ڈش کا کوئی قانون نہیں ملا۔
اختتامی وقت
اپریل 2026 سے سندھ کے علاوہ وفاقی توانائی بچت اوقات (ہال رات 10 بجے تک) لاگو ہوئے؛ موجودہ ضلعی نوٹیفکیشن دیکھیں۔
سزا
لاگو نہیں۔
بلوچستان کوڈ کی فہرست کا صرف کچھ حصہ دیکھا جا سکا، اس لیے مکمل تصدیق نہیں۔

ماخذ (انگریزی)

جہیز

جہیز اور دلہن کے تحائف (پابندی) ایکٹ 1976

  • جہیز اور والدین کے تحائف 5 ہزار روپے، دلہن کے تحائف 5 ہزار روپے (دفعہ 3)؛ دیگر تحائف 100 روپے (دفعہ 4)؛ شادی کا کل خرچ 2,500 روپے (دفعہ 6)۔ یہ 1976 کی حدیں عملاً نافذ نہیں سمجھی جاتیں۔
  • جہیز اور تحائف مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہیں (دفعہ 5)۔ ان کی فہرست نکاح رجسٹرار کو دی جائے (دفعہ 8)۔
  • ایکٹ کے تحت سلامی اور نیوندرا "تحفہ" میں شامل نہیں (دفعہ 2)۔
  • پنجاب کا 2016 کا ایکٹ جہیز کی عوامی نمائش پر پابندی لگاتا ہے؛ خیبر پختونخوا دلہن کے خاندان کے تحائف ایک لاکھ تک محدود کرتا ہے اور جہیز کے مطالبے کو جرم قرار دیتا ہے۔

نکاح کا اندراج

  • ہر مسلم نکاح کا اندراج لازم ہے؛ یونین کونسل نکاح رجسٹرار کو لائسنس دیتی ہے (مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961، دفعہ 5)۔
  • پنجاب میں رجسٹرار نکاح نامے کا ہر خانہ دلہا دلہن کے جواب سے پُر کرے؛ خالی چھوڑنا قابلِ سزا ہے (دفعہ 5(2A)، 2015 میں شامل)۔
  • اگر نکاح رجسٹرار کے علاوہ کوئی پڑھائے تو اس کی اطلاع رجسٹرار کو دینا لازم ہے (دفعہ 5(3))۔
  • اندراج کے بعد یونین کونسل سے کمپیوٹرائزڈ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ لیں۔ پنجاب نے دسمبر 2025 میں نادرا کے ساتھ سول رجسٹریشن ایپ شروع کی۔

سرٹیفکیٹ کی فیس اور وقت ہر یونین کونسل میں مختلف ہے اور ان کی تصدیق نہیں ہو سکی؛ اپنی یونین کونسل سے پوچھیں۔